آیا جو مصطفیٰ کے ہے آستان پر
طالع اسی کے چمکے پھر آسمان پر
فیضانِ سے نبی کے کونین کی نمو
رحمت ہے اُن کی سایہ دونوں جہان پر
ہیں رونقیں دہر میں الطافِ دلربا
قربان دو جہاں ہیں جانِ زمان پر
مرہونِ جانِ ما ہے کونین کا سکوں
رہتی نظر ہے اُن کی ہر ایک جان پر
بھولے کہاں ہمیں وہ معراج رات بھی
لائے جو یادِ امت ہیں لامکان پر
گلیوں میں دلربا کی ایسے لگا مجھے
جیسے میں آ گیا ہوں دارِ جِنان پر
بھولا غمِ جہاں میں جالی کے سامنے
فردوس مل رہی ہے داتا کے خوان پر
محمود دان جن کا محشر میں ہے نجات
جاری ثنا ہے اُن کی ہر آسمان پر

0
1
2
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ : حضور نبی کریم ﷺ کی عظمت، رحمت، شفاعت اور فیضانِ نبوت کا نہایت دلنشیں اور ایمان افروز بیان ہے۔ شاعر عقیدت بھرے انداز میں واضح کرتا ہے کہ آستانۂ مصطفیٰ ﷺ کی حاضری انسان کی حقیقی سعادت ہے اور آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس تمام جہانوں کے لیے سرچشمۂ رحمت و برکت ہے۔ کلام میں شبِ معراج کے مبارک واقعے، امتِ مسلمہ کے لیے حضور ﷺ کی بے مثال شفقت، اور مدینۂ منورہ کی روحانی عظمت کو نہایت محبت اور احترام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ روضۂ اقدس کی حاضری، سبز گنبد کی زیارت اور مدینہ کی گلیوں سے وابستہ روحانی سکون کو جنت کی نعمتوں سے تشبیہ دے کر شاعر اپنے والہانہ جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ اختتام پر حضور اکرم ﷺ کی دائمی مدح و ثنا، امیدِ شفاعت اور محبتِ رسول ﷺ کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے یہ نعت قاری کے دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ، شوقِ مدینہ اور اتباعِ سیرتِ نبوی ﷺ کے جذبات کو تازہ کر دیتی ہے۔

0