| غزل |
| خستہ خامے کو میں تلوار بنا سکتا ہوں |
| وہ پیادہ ہوں کہ سالار بنا سکتا ہوں |
| قیصرِ وقت کے ایوانوں کو لرزاں کر دے |
| چند لفظوں سے وہ للکار بنا سکتا ہوں |
| مَن میں خوابیدہ اُمنگوں کو اُجاگر کر کے |
| سانس لیتے ہوئے کردار بنا سکتا ہوں |
| غالب و میر سے فیضانِ ہنر پایا ہے |
| خارِ مژگاں سے میں گلزار بنا سکتا ہوں |
| ریختہ کو نئے اعجازِ معانی دے کر |
| موئے لیلہ کو میں شہکار بنا سکتا ہوں |
| خشک ہونٹوں پہ جو لے آئیں صباحت یکسر |
| لبِ و رخسار پہ اشعار بنا سکتا ہوں |
| لطف اشعار میں پوشیدہ ہے مینا جیسا |
| مفتیِ شہر قدح خوار بنا سکتا ہوں |
| آئیں صد شوق تری مدح سرائی سننے |
| کچھ رقیبوں کو ابھی یار بنا سکتا ہوں |
| جاں چھڑکتے تھے کبھی، واقفِ احوال نہیں |
| اور دعویٰ ہے نئے یار بنا سکتا ہوں |
| زندگی بحرِ طلاطم ہے، نہیں ہوں خائف |
| ہاتھ سالم ہیں میں پتوار بنا سکتا ہوں |
| فاصلے پر وہ رہیں ہم سے شہاب اچھا ہو |
| زندگی غیر کی دشوار بنا سکتا ہوں |
| شہاب احمد |
| ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶ |
| رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع |
| فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن |
معلومات