| دلوں کے درمیاں حائل فقط دیوار ہی تو ہے |
| جو لب پر آ نہیں پایا، وہ اک اقرار ہی تو ہے |
| ہم اپنی ذات کی پہچان دنیا سے طلب کرتے |
| مگر دنیا کی نظروں کا بھی اک معیار ہی تو ہے |
| جسے ہم زندگی بھر اپنی خوشیوں کا سبب سمجھے |
| وہی رشتہ ہماری روح کا آزار ہی تو ہے |
| ہوا کے خوف سے سارے دریچے بند کر ڈالے |
| مکاں محفوظ ہے، لیکن یہ بھی حصار ہی تو ہے |
| سکوں کی جستجو میں ہم نے اپنی ذات کھو ڈالی |
| جسے سمجھے تھے ہم راحت، وہی آزار ہی تو ہے |
| یقیں کی روشنی میں عمر بھر چلتے رہے لیکن |
| جو آنکھوں پر پڑا تھا، وہ بھی اک غبار ہی تو ہے |
| ہر اک انسان اپنے سچ کو سچ کہتا ہے دنیا میں |
| مگر ہر دعوۂ حق میں کہیں پندار ہی تو ہے |
| ہمیں جس خوف نے برسوں حقیقت سے جدا رکھا |
| وہ اپنے ہی گمانوں پر فقط اعتبار ہی تو ہے |
| یہ دنیا شاہدؔ اپنے عکس سے نظریں چراتی ہے |
| ہر اک چہرے کے پیچھے دوسرا کردار ہی تو ہے |
معلومات