| اے مولا کرم کر تو رحمٰن ہے |
| تو قادر تو خالق تو سلطان ہے |
| حسیں تیری قدرت کئی رنگ ہیں |
| خرد والے جس سے گراں دنگ ہیں |
| ہیں مخلوق تیری جہان و مکاں |
| بدلنا دنوں کا برائے زماں |
| رکھے تو نہ ثانی تو واحد خدا |
| صمد ذات باری، تو ہی کبریا |
| پیمبؑر ہیں تیرے نبیؑ اور رسولؑ |
| سنہری جو لائے جہاں میں اصُول |
| خزانے ہمیشہ رکھے تو بھرے |
| سدا حکم تیرے سے گردوں چلے |
| نہیں باپ تیرا نہ ماں ہے کوئی |
| نہ پوشیدہ تجھ سے جہاں ہے کوئی |
| نہ بیٹا نہ بیٹی نہ اولاد ہے |
| تو ہر ایسے بندن سے آزاد ہے |
| تو داتا ہے سب کا تو سلطان ہے |
| دیا تو نے جو کچھ، یہ احسان ہے |
| ہے پابند ذرہ بھی تیرا سدا |
| تو مالک، خلق کا، ہمیشہ رہا |
| ہیں پھیلے دعا کے لیے میرے ہاتھ |
| سدا تیرے الطاف ہوں میرے ساتھ |
| کرم ہو کریمی تو یزدان ہے |
| سخی تیرے ہاتھوں میں ہر جان ہے |
| تو خالق تو داتا مہر بان ہے |
| ہے مخلوق عاجز جو انسان ہے |
| دئیے تو نے اپنے حسیں دلربا |
| نبیؐ ہیں جو ہادی سخی مصؐطفیٰ |
| یہ عرضی ہے محمود! کی اے الہ |
| شفاعت کریں اس کی صلے علیٰ |
معلومات