اگر منہ میں زباں ہے، بولنا ہے
مگر ہر لفظ پہلے تولنا ہے
پرانی دھوپ یوں کب لوٹ آئے
پرانی کھڑکیوں کو کھولنا ہے
وہ تیکھے کا بیوپاری ہے ، چھوڑو
ہمیں میٹھے میں میٹھا گھولنا ہے
کتابوں میں وہی کچھ پھول سوکھے
وہی یادوں بھرا اک جھولنا ہے
یونہی چھیڑا ہوا کی جنبشوں نے
شجر کو دیر تک اب ڈولنا ہے
عجب سی بھیڑ ہے بازارِ غم میں
کوئی یوسُف یہاں کیا مولنا ہے!
شبِ ہجراں کے بکھرے خواب ذرّے
اٹھو شؔیدا انہیں اب رولنا ہے

0
4