خدا کی جستجو کا راستہ الگ سا ہے
خرد کا عشق سے یوں واسطہ الگ سا ہے
ملے نہ لفظوں میں سجدوں کی وہ نمائش میں
میں جس کو ڈھونڈتا ہوں وہ خدا الگ سا ہے
خودی کی قید سے نکلے تو در کھلا اُس کا
وگرنہ ساتھ بھی سب کے کھڑا الگ سا ہے
محبت اُس کی ہی اک شرط ہے تعلّق میں
وگرنہ قول تو ہر شخص کا الگ سا ہے
چراغِ دل کو جلاؤ تو آئے رستہ نظر
کہ تیرہ شب میں کوئی رہنما الگ سا ہے
خدا کو ڈھونڈنے والے جو دیکھیں مل جائے
کہ جس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیا الگ سا ہے
فنا کی راہ میں آسانیاں کہاں طارِق
یہی تو رستوں میں رستہ ذرا الگ سا ہے

0
3