میں جب کہیں بھی سفر پہ جاؤں
نگر نگر یا کہ دور گاؤں
ہو زندگانی کی دھوپ چھاؤں
جہاں رہوں میں اسے بلاؤں
میں لوٹ آؤں کہ اس سے پہلے
وہ میری زوجہ وہ میری ہمدم
وہ میرے زخمِ جگر کی مرہم
سجائے سارے مکاں کو میرے
لگائے در پر حسین پردے
رکھے سلیقے سے چھت پہ گملے
مکان سارا کرے معطر
ایک ایک کپڑا ایک ایک زیور
بدل کے رکھ دے ہر ایک منظر
کہا تھا اک دن کبھی یہ میں نے
ہیں میری دولت یہ سب کتابیں
رکھو سدا تم انہیں سنبھالے
اسی سبب سے وہ آج تک بھی
رکھے کتابوں کو صاف ستھرا
مگر وہ اکثر یہ بھولتی ہے
کہاں سے لے کر کہاں ہے رکھنا
کہیں پہ رکھے ہے جلدِ اول
کہیں پہ رکھے ہے جلد دوم
اسی طرح سے وہ ساری جلدیں
جگہ بدل کر وہ یوں ہی رکھے
میں جب بھی کوئی کتاب ڈھونڈوں
کبھی یہاں تو کبھی وہاں ہے
بڑی مشقت کے بعد پھر سے
میں ساری جلدوں کو جوڑتا ہوں
میں بارہا یہ تو کہہ چکا ہوں
زبانِ اردو سے دور ہے تُو

5