آگ نفرت کی ہم بجھاتے ہیں
دیپ الفت کے پھر جلاتے ہیں
جان دینے سے ہم نہیں ڈرتے
نیک مقصد پہ جاں لٹاتے ہیں
خوف کے سائے سر پہ منڈلائیں
گیت پھر بھی سکوں کے گاتے ہیں
اپنی بنتی ہے پھول کلیوں سے
پیار سے سب کو ہم بلاتے ہیں
آرزو ہے چمن میں امن رہے
سو اخوت یہاں سکھاتے ہیں
ظالموں کے خلاف لکھنے کو
بس بہادر قلم اٹھاتے ہیں
خواب آنکھوں میں ہیں تو بتلاؤ
ان کی تعبیر ہم بتاتے ہیں

0