رب کی عطائے خاص ہے الفت حبیب کی
آلِ نبی کی چاہتیں قربت حبیب کی
نغماتِ دل نشین سے زینت فضا میں ہو
مولا ثنا ہو آپ کی مدحت رسول کی
آتے سدا درود ہیں آقا پہ ہر گھڑی
ہے پنہاں جس میں خیر سے راحت حبیب کی
دیکھوں سنہری جالیاں روضہ رسول پر
مولا عطا مجھے بھی ہو خدمت حبیب کی
کارِ زیاں بھی خلق کے وہ در گزر کریں
خوشیوں سے بھر دیں جھولیاں عادت حبیب کی
راضی رضا میں تیری جو عاصی رہے کریم
زیور ملے سدا اسے چاہت حبیب کی
تاکہ میں مصطفیٰ کو یہ چہرہ دکھا سکوں
میں عاجزی سے مانگوں شفاعت حبیب کی

1
15
یہ نعت بنیادی طور پر **عشقِ رسول ﷺ، درود و سلام، اور شفاعت کی طلب** کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:

* حضور ﷺ کی محبت اللہ کی خاص عطا ہے، اور اہلِ بیتؓ سے محبت بھی اسی قربِ رسول ﷺ کا حصہ ہے۔
* مؤمن کی زندگی کا حسن یہی ہے کہ وہ حضور ﷺ کی تعریف، نعت اور درود میں مشغول رہے۔
* نبی کریم ﷺ کی ذات سراپا رحمت ہے، جن کی برکت سے دلوں کو سکون اور راحت ملتی ہے۔
* شاعر کی دلی خواہش ہے کہ اسے روضۂ رسول ﷺ کی حاضری اور خدمت نصیب ہو۔
* حضور ﷺ کی عادتِ کریمہ یہ ہے کہ وہ خطاؤں سے درگزر فرماتے اور امت کو نوازتے ہیں۔
* اللہ کی رضا میں رہنے والا—even اگر گناہگار ہو—محبتِ رسول ﷺ کی بدولت کامیاب ہو سکتا ہے۔
* آخر میں شاعر عاجزی سے شفاعتِ رسول ﷺ کا طالب ہے تاکہ قیامت کے دن سرخرو ہو سکے۔

**مختصر نچوڑ:**
یہ نعت عشقِ رسول ﷺ، درود و سلام، رحمتِ نبوی، اور شفاعت کی امید کا ایک جامع اظہار ہے، جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کیا گیا ہے۔

0