| ہم زخم کو لفظوں میں چھپانے میں لگے ہیں |
| اور لوگ وہی لفظ سنانے میں لگے ہیں |
| اک عمر لگی خود کو سمجھنے میں ہمیں بھی |
| کچھ لوگ ہمیں ہم سے ملانے میں لگے ہیں |
| دیوار پر اک عکس ابھی قائم ہے مگر ہم |
| اس گھر کو نئے رنگ لگانے میں لگے ہیں |
| یہ عمر بھی کیا شے ہے، سنبھلتی ہی نہیں ہے |
| ہم وقت کو تصویریں دکھانے میں لگے ہیں |
| ہم یاد کے کاغذ کو جلا آئے ہیں کب سے |
| وہ نام مگر پھر سے بلانے میں لگے ہیں |
| اک شخص کو بھولے ہوئے مدت ہوئی لیکن |
| موسم وہی پھر یاد جگانے میں لگے ہیں |
| ہم اپنے ہی سائے سے نکلنے کی طلب میں |
| دیوار پہ دروازہ بنانے میں لگے ہیں |
| خاموشی کئی روز سے اس گھر میں مقیں ہے |
| ہم شور کو تہذیب سکھانے میں لگے ہیں |
معلومات