| درپیش مسائل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں |
| ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نسب ڈھونڈ رہا ہوں |
| دل لے کے نکل آیا ہوں بازارِ جہاں میں |
| اب تجھ سا کوئی دستِ طلب ڈھونڈ رہا ہوں |
| محمد اویس قرنی |
| درپیش مسائل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں |
| ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نسب ڈھونڈ رہا ہوں |
| دل لے کے نکل آیا ہوں بازارِ جہاں میں |
| اب تجھ سا کوئی دستِ طلب ڈھونڈ رہا ہوں |
| محمد اویس قرنی |
معلومات