سر تو جھکا ہے سجدے میں دل بھی جھکا ہے کیا
سوچا ہے تونے یہ کبھی راضی خدا ہے کیا
اک قَطْرَۂ حقیر سے خلقت ہوئی تری
رہتا ہے پھر بھی زعم میں تُجھ کو ہوا ہے کیا
کیسے کوئی مراد ہو پوری تری بھلا
اعمال کیا ہیں اور ترے لب پر دعا ہے کیا
دنیا کی جستجو میں رہا جو تمام عمر
یہ بھی بتا کہ دنیا سے تُجھ کو ملا ہے کیا
لوگوں کے حق بھلا دیے سجدوں کی آڑ میں
پھر بھی یہ پوچھتا ہے کہ یا رب خطا ہے کیا
جاتا ہے در پہ اور کے خالق کو چھوڑ کر
دنیا میں کوئی اور بھی حاجت روا ہے کیا
خلقِ خدا کی خدمتیں رب کی عبادتیں
نُسخہ ہے زندگی کا یہ اسکے سوا ہے کیا
سالم تو ہر کسی کے لیے حُسنِ ظن ہی رکھ
دل میں ہے کس کے کیا بھلا تُجھ کو پتا ہے کیا

0
3