عشق کے زوال میں
کٹ گئی ملال میں
ہجر کی تلاش تھی
کھو گیا وصال میں
تیری آنکھ دیکھ لی
پھنس گیا ہوں جال میں
میں تباہ ہو گیا
دل کی دیکھ بھال میں
زخم سب ہرے ہوئے
وقت کے اچھال میں
عمر لوٹ آئی ہے
تیری ایک کال میں
ہنس رہا ہوں جابجا
درد کے وبال میں
عقدے سارے کھل گئے
کشف کے جمال میں
قرنی مجھ کو رہنے دے
اپنے ہی خیال میں

0
1