آفاقِ دو جہاں میں مدحت حضور کی
بعد از خدا خلق میں عزت حضور کی
پہچان رکھتے ہیں سب آقا کریم کی
خلقِ خدا کے دل میں الفت حضور کی
اُن کے ورود سے ہی رونق دہر میں ہے
ہستی میں راحتیں ہیں برکت حضور کی
افلاق، اُن کے راہی تابع حضور کے
سینے میں دو جہاں کے چاہت حضور کی
دلشاد اُن کے در پر سائل نبی کے ہیں
کوثر میں سب خزانے ثروت حضور کی
جبریل جیسے درباں بابِ رسول پر
دیتی شرافتیں ہے قربت حضور کی
مولا کو دیکھنے تھے جلوے کریم کے
دیکھی بلا کے رب نے صورت حضور کی
محمود گونجتے ہیں ڈنکے حبیب کے
ہے قلبِ دہر پر بھی ہیبت حضور کی

0
1