نظریں اٹھا کے منزلوں کے پار دیکھنا
آسان ہوں گی راہیں تو اس بار دیکھنا
پردہ ہٹا کے آنکھوں سے اے یار دیکھ نا!!
کچھ بھی نہیں یہاں پہ ہے بیکار دیکھنا
چل آزما لے مشکلوں میں مجھکو تو کبھی
ہر جا رہوں گا یار میں تیار دیکھنا
ممتا کے اک نگاہ کی آفاقیت کو دیکھ
ہے دیکھنا ان آنکھوں میں سنسار دیکھنا
اپنی شکَست کا ہے خطاوار تو ہی خود
ہوگا تجھی میں تیرا وہ غدار دیکھنا

0
5