عجب نظّارہ دیکھا دوسرے دن پھر ہے جلسے کا
سنی تقریریں نظمیں سب اثر تھا کل کے خطبے کا
خلیفہ کے سبھی خطبات نے دل جگمگا ڈالے
ہر اک جملہ بنا پیغام نورِ حق کے جلوے کا
بچھا روحانی ایسا مائدہ ہر سمت محفل میں
ملے باہم تو لگتا تھا ہر اک بندہ محلّے کا
دعاؤں کی فضا میں بھیگتی ہیں آرزوئیں سب
کھلا محسوس ہوتا ہے کہ ہے ماحول جلسے کا
محبت اور اخوّت کا ہر اک منظر نرالا ہے
یہاں ہر شخص لگتا ہے مجھے اپنے قبیلے کا
یہاں پر جذبۂ ایثار سے لبریز خادم ہیں
پسینہ بھی ہوا شاہد ہے بہہ کر ان کے ماتھے کا
یہاں اطفال بھی پانی پلاتے مسکراتے ہیں
سبق دیتے ہیں سب کو شوق سے خدمت یہ کرنے کا
رضاکاروں کی محنت میں عبادت کی جھلک دیکھی
خدا شاہد ہے خود جو اجر دے خدمت کے جذبے کا
یہ جلسہ صرف محفل ہی نہیں ہے درس گاہِ دل
یہاں ملتا ہے ہر لمحہ سبق تقویٰ پہ چلنے کا
سمیٹیں یہ خزانے مل کے طارِق اپنے دامن میں
کہ ہر لمحہ ہی سرمایہ ہے یادوں کے خزینے کا

0
5