نامِ نبی سے تاباں کونین کی سحر ہے
ادراک دے جو اس کا سرکار کی نظر ہے
تعلیم کبریا سے کونین کو ملی یوں
ہر قول مصطفیٰ کا مختار سے خبر ہے
کُن کا جہان روشن اُن کے ورود سے ہے
محور وجودِ ہستی سرکار کا جو در ہے
یہ جان چیز کیا ہے جانیں ہزار واروں
باقی حیات ہے جو سرکار کی نذر ہے
اُن پر درود لاکھوں اُن پر سلام دائم
ہر دورِ زندگی پر جن سے گراں اثر ہے
جیون ملا دہر کو سرکار کی عطا سے
وہ قلزمِ غنا ہیں اُن کا خیار گھر ہے
جاری ہے نبضِ ہستی محمود مصطفیٰ سے
ہر آن مصطفیٰ کو ہر حال کی خبر ہے

1
6
خلاصہ:
یہ نعت حضور ﷺ کو کائنات کی روشنی، زندگی کی روح، ہدایت کا سرچشمہ، اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے علم و خبر کا مرکز قرار دیتی ہے، اور عاشقانہ انداز میں آپ ﷺ سے بے مثال محبت، عقیدت اور وفاداری کا اظہار ہے۔

0