| نامِ نبی سے تاباں کونین کی سحر ہے |
| ادراک دے جو اس کا سرکار کی نظر ہے |
| تعلیم کبریا سے کونین کو ملی یوں |
| ہر قول مصطفیٰ کا مختار سے خبر ہے |
| کُن کا جہان روشن اُن کے ورود سے ہے |
| محور وجودِ ہستی سرکار کا جو در ہے |
| یہ جان چیز کیا ہے جانیں ہزار واروں |
| باقی حیات ہے جو سرکار کی نذر ہے |
| اُن پر درود لاکھوں اُن پر سلام دائم |
| ہر دورِ زندگی پر جن سے گراں اثر ہے |
| جیون ملا دہر کو سرکار کی عطا سے |
| وہ قلزمِ غنا ہیں اُن کا خیار گھر ہے |
| جاری ہے نبضِ ہستی محمود مصطفیٰ سے |
| ہر آن مصطفیٰ کو ہر حال کی خبر ہے |
معلومات