| روشنی میں کہاں چھپوں صاحب |
| اپنا سایہ کہاں رکھوں صاحب |
| گھر میں ہر شے وہیں پڑی ہے مگر |
| اس کو گھر کس طرح کہوں صاحب |
| در بھی میں نے ہی بند رکھا تھا |
| اب یہ دستک کہاں سنوں صاحب |
| عمر بھر وقت کو بچاتا رہا |
| اتنی فرصت کا کیا کروں صاحب |
| خواب پورا تو ہو گیا آخر |
| اب یہ آنکھیں کہاں رکھوں صاحب |
| ہاتھ کانپے تو دستخط بگڑے |
| نام اب کس طرح لکھوں صاحب |
| میں نے چپ رہ کے بات ٹال تو دی |
| دیر تک اپنی چپ سنوں صاحب |
| اتنی ترتیب سے گزاری عمر |
| اب ذرا کھل کے بھی جیوں صاحب |
| وہ جو اک بات رہ گئی مجھ میں |
| کیا ضروری ہے وہ کہوں صاحب |
معلومات