اک درد اٹھا ہے سینے میں
تکلیف ہوئی ہے جینے میں
وہ ساتھ رہا تو لگتا تھا
اک نور سا ہے اب سینے میں
جب چھوڑ گیا تو دل ٹوٹا
کچھ باقی نا تھا جینے میں
اک شخص کی یادوں کا موسم
برسات بنا ہے مہینے میں
میں ہنس تو رہا ہوں محفل میں
پر آگ لگی ہے سینے میں
وہ لوٹ کے آئے گا شاید
یہ آس ابھی تک جینے میں
ہر زخم چھپایا لوگوں سے
اک نام مگر ہے سینے میں
یہ بات مبارکؔ کیسے کہونں
جو درد لکھا ہے سینے میں

0
18