| اک درد اٹھا ہے سینے میں |
| تکلیف ہوئی ہے جینے میں |
| وہ ساتھ رہا تو لگتا تھا |
| اک نور سا ہے اب سینے میں |
| جب چھوڑ گیا تو دل ٹوٹا |
| کچھ باقی نا تھا جینے میں |
| اک شخص کی یادوں کا موسم |
| برسات بنا ہے مہینے میں |
| میں ہنس تو رہا ہوں محفل میں |
| پر آگ لگی ہے سینے میں |
| وہ لوٹ کے آئے گا شاید |
| یہ آس ابھی تک جینے میں |
| ہر زخم چھپایا لوگوں سے |
| اک نام مگر ہے سینے میں |
| یہ بات مبارکؔ کیسے کہونں |
| جو درد لکھا ہے سینے میں |
معلومات