| اس کو غیروں کے محلے کا مکاں ٹھیک لگا |
| وہ وہیں جا کے بسا اس کو جہاں ٹھیک لگا |
| بیچ رہ اس کے بچھڑنے کا ہی اندیشہ تھا |
| اس نے چھوڑا تو مجھے اپنا گماں ٹھیک لگا |
| شام ڈھلتی ہے تو پھر اس کا خیال آتے ہی |
| مجھ کو تنہائی میں سگریٹ کا دھواں ٹھیک لگا |
| اس کی آنکھوں سے بڑی دیر تلک بات ہوئی |
| بےزباں ہو کے بھی اندازِ بیاں ٹھیک لگا |
| دل تو ٹوٹا تھا مگر ضبط نے آواز نہ دی |
| وہ نہ رویا تو مجھے ترکِ فغاں ٹھیک لگا |
| محمد اویس قرنی |
معلومات