| مرے دلربا مری ذات میں نہ جلال ہے نہ جمال ہے |
| میں کہیں نہیں میں کہیں نہیں مرے حال میں ترا حال ہے |
| مجھے دو جہاں سے نہیں غرض مجھے بس ترا ہی خیال ہے |
| یہ تری نظر کا کمال ہے نہ وبال ہے نہ زوال ہے |
| مرا عزم ہے تجھے ڈھونڈنا مرا کام تجھ کو پکارنا |
| تجھے چاہنا تجھے ماننا مری بندگی بھی کمال ہے |
| ترے عشق میں مجھے کیا کمی ہے اسی سے اب مری برتری |
| مرے ساتھ یاد رہے تری مجھے کچھ نہ فکرِ مآل ہے |
| مجھے شاہد اب نہیں غم کوئی مرے دل میں آپ کی آل ہے |
معلومات