کہے جس کو مولا یہ میرا ہے بندہ
اشارے سے اُس نے کیا چاق چندہ
ارادے سے اُن کے مہر لوٹ آیا
فضائے دہر کو کریں آپ خندہ
نبی نے سجائے ارم میں جو گلشن
پراگندہ اس سے ہے شیطاں درندہ
رواں ظلمتیں ہیں ورودِ نبی سے
ہوا اُن سے تاراج ہر خام دھندہ
بڑی اہلِ ایماں پہ آئی ہے رونق
گناہوں سے دیکھیں ہوا صاف گندہ
بتانِ حرم کو گرایا نبی نے
کیا جس نے بازارِ طاغوت مندہ
سخی مصطفیٰ پیارے دلبر خدا کے
خدا نے دیا اُن کو قرآن زندہ
ملا مصطفیٰ سے ہمیں دینِ کامل
ہے نامِ نبی عرشِ مولا پہ کندہ
یہ محمود ممنون ذاتِ نبی کا
ہیں جن کے قدم سے جہاں آج زندہ

0
2