اٹھاؤ نفرتوں کا بار سب لوگوں کی ہستی سے
اٹھاؤ مشکلوں کے خار ہر کوچے سے بستی سے
لگا دو تم یہاں افلاس کے آنے پہ پابندی
کرو یوں پاک اپنے شہر کو بھی فاقہ مستی سے
کمی زندہ ضمیروں کی نہیں ہو گی یہاں لیکن
نکالیں دیس کو اپنے اگر فرقہ پرستی سے
جگہ دیتے ہیں ہر منفی خبر کو سرخیوں میں یہ
تو پھر نکلے بھلا کیسے کوئی اخبار پستی سے
سیاست گر عبادت ہے تو محور ہو خدا اس کا
ضروری ہے کرو توبہ سیاسی بت پرستی سے

0
1