مظلوم ہو مالک ہر دم تیری پناہوں میں
"ماحول ہے جنگوں کا وحشت ہے فضاؤں میں"
اظہار ندامت ہو، احساس خطایا ہو
حاصل ہو تبھی حسن تاثیر دعاؤں میں
جیتے ہیں سدا وہ فکر عقبی میں رغبت سے
تسلیم و رضا رہتی ہے جن کی نگاہوں میں
ہو اشک رواں آنکھوں سے، عجز لبوں پر ہو
رحمان کی منظوری پوشیدہ ہے آہوں میں
مقبول ہو ناصؔر کی فریاد مرے مولی
برپا ہو اماں گلیوں میں اور ہو راہوں میں

0
17