| ہمیں گماں تھا ہم عشق میں شرابی تھے |
| کھلا یہ راز کہ ہم لوگ ہی خرابی تھے |
| عجیب لوگ تھے، ہر بات پر دلیل ان کی |
| ہم اہلِ عشق تھے، وہ لوگ تو کتابی تھے |
| ہم اپنے زخم چھپاتے رہے ہنسی میں مگر |
| ہمارے قہقہے اندر سے کچھ عذابی تھے |
| تمہارے سامنے کھلتے بھی کس طرح آخر |
| ہم اپنے آپ سے بھی کس قدر حجابی تھے |
| تمہیں بھلا کے بھی خود سے نجات کیا ملتی |
| تم ایک شخص نہیں تھے، مری خرابی تھے |
| کسی نے پوچھ لیا عشق کا سبب ہم سے |
| ہماری چپ میں کئی مسئلے جوابی تھے |
| ہماری بات میں اتنا تضاد کیوں نہ رہا |
| ہم اہلِ عشق تھے لیکن بہت حسابی تھے |
| ہمیں یقیں تھا بدلیں گے ہم زمانے کو |
| مگر جو خود کو نہ بدلے، وہ انقلابی تھے |
| تمہارے بعد بھی روشن تھی رات آنکھوں میں |
| ہم اپنے ہجر کے صحرا میں ماہتابی تھے |
معلومات