کسی منزل پہ رک جاؤ تو پھر رستہ نہیں رہتا
سفر باقی رہے تو آدمی تنہا نہیں رہتا
کوئی لہجہ اگر مشہور ہو جائے تو بھی اکثر
اسی آواز میں پھر آدمی اپنا نہیں رہتا
کسی منصب پہ بیٹھو تو ذرا یہ یاد بھی رکھنا
بدن کرسی پہ رہتا ہے، مگر رشتہ نہیں رہتا
بہت آسان ہے تاریخ کو پتھر پہ لکھ دینا
مگر پتھر پہ لکھ دینے سے وہ سچا نہیں رہتا
زبانیں یاد رہتی ہیں، مگر لہجے نہیں رہتے
وطن چھوٹے تو لفظوں میں بھی گھر سا گھر نہیں رہتا
کسی دشمن سے تم گر در گزر کر لو تو پھر اک دن
تمہارے دل پہ اس کا پھر سے وہ قبضہ نہیں رہتا
ہم اپنے عیب پر ہنسنے کا فن جب سیکھ لیتے ہیں
کسی بھی آئینے سے خوف پھر اتنا نہیں رہتا
بہت تعریف سن کر آدمی یہ بھول جاتا ہے
کہ ہر تصویر میں چہرہ مگر سچا نہیں رہتا
کسی بچے کو دنیا کی سمجھ جلدی نہیں دینا
سمجھ آ جائے تو دنیا تماشا پھر نہیں رہتا
اگر ہر بات کا مطلب بتانا لازمی ٹھہرے
تو پھر لفظوں میں چھپنے کا کوئی رستہ نہیں رہتا
کسی وعدے کو ہر لمحہ نبھانے کی قسم کھا کر
قسم باقی بھی رہ جائے تو پھر وعدہ نہیں رہتا
بہت نزدیک جا کر آدمی پہچانتا ہے یہ
ہر اک خاموش رہتا آدمی تنہا نہیں رہتا

0
5