| مجھ کو اک عمر تھی میری ہی جستجو، کیا کہوں کس طرح خود کو پایا تھا مَیں |
| مَیں جب آیا یہاں، جانے میں تھا کہاں، ہاں مگر، یاد کر، لوٹ آیا تھا مَیں |
| نام بس کاغذوں پر لکھا رہ گیا، کچھ لبوں پر مِرا تذکرہ رہ گیا |
| مَیں کہاں سے چلا اور کیا رہ گیا، جانے امکان تھا یا کِنایا تھا مَیں |
| ایک مدت ہوئی، ظُلمتوں نے کبھی میری راہوں میں آنے کی ہمت نہ کی |
| بس کسی دن یونہی، بر سرِ تیرگی، روشنی کا علَم تھام لایا تھا مَیں |
| یہ جو مسکان ہے میرے ہونٹوں پہ، شاید سمجھتے ہو تم زیست آسان ہے؟ |
| میرے لوگوں سے پوچھو، بہت دیر تک بے بسی پر مِری مسکرایا تھا مَیں |
| کُند ہے تیری شمشیر او قاتلا، مَیں دِیا ہوں جو جل کے نہیں بُجھ سکا |
| جانتے ہیں مجھے سب زمینی خدا، تو نے کیا سوچ کے آزمایا تھا مَیں؟ |
| ساتھ لے چل مجھے بہرِ آوارگی، چھوڑ حمّاد، یہ وجہِ بیگانگی، |
| ہوش صدقے تِرے میری دیوانگی، یاد رکھنا کبھی لڑکھڑایا تھا مَیں |
| حماد یونس |
معلومات