| مجھ کو اک عمر تھی میری ہی جستجو، کیا کہوں کس طرح خود کو پایا تھا مَیں
|
| مَیں جب آیا یہاں، جانے میں تھا کہاں، ہاں مگر، یاد کر، لوٹ آیا تھا مَیں
|
| نام بس کاغذوں پر لکھا رہ گیا، کچھ لبوں پر مِرا تذکرہ رہ گیا
|
| مَیں کہاں سے چلا اور کیا رہ گیا، جانے امکان تھا یا کِنایا تھا مَیں
|
| ایک مدت ہوئی، ظُلمتوں نے کبھی میری راہوں میں آنے کی ہمت نہ کی
|
| بس کسی دن یونہی، بر سرِ تیرگی، روشنی کا علَم تھام لایا تھا مَیں
|
|
|