حاصلِ جرم ہے جہاں، روزِ جزا ہے کس لئے
دارِ عمل ہے یہ اگر رسمِ دعا ہے کس لئے
نغمۂ سازِ زندگی، تیری سمجھ نہ آ سکی
اونچے سروں کی چال میں دل کی صدا ہے کس لئے
عشق ہے کارِ بے ریا  ، نام کی کیوں ہوئی ہوس
دار پہ رفعتیں ملیں اب یہ گلہ ہے کس لئے
قید میں کب سے بے نوا جکڑا ہوا غلام ہے
اس سے بھلا تقاضۂ عہدِ وفا ہے کس لئے
سب نے کہا تھا شاعری ایک عذاب ہے بچو
ہوش و خرد گنوا کے اب آہ و بکا ہے کس لئے

0
2