| چشمِ نمناک دعائوں میں اثر لائے گی |
| صبحِ آزادی رہائی کی خبر لائے گی |
| رات آنکھوں میں کٹی پھر بھی سویرا نہ ہوا |
| ہم نے سمجھا تھا کہ بیداری سحر لائے گی |
| سبز پنجاب کے سینے پہ پڑی سرخ لکیر |
| اور محبوس کرے گی یا کہ پر لائے گی؟ |
| آبلے پائوں میں آنکھوں میں سفیدی اتری |
| کب وہ منزل کا ثمر شاخِ سفر لائے گی |
| آئے گا جب کبھی مٹی میں وہ اقبال کا نم |
| کشتِ ویران میں زرخیزی اثر لائے گی |
| لاکھ اونچا میں اڑوں پھر بھی مری ارضِ وطن |
| جانتا ہوں تیری چاہت مجھے گھر لائے گی |
معلومات