نہ ہم نے کبھی آہ و ماتم کیا
مگر دل ہی دل میں تظلم کیا
کھلی آنکھ تو اڑ گئی رنگتیں
بہارِ چمن نے تبسم کیا
دلِ زار کو مے کدے کی تھی چاہ
زمانے نے رسوا سرِ خم کیا
رہا ضبطِ غم کا بھرم ہی کہاں
جو آنسو بہا، پھر تلاطم کیا
پتا اب ہمارا کوئی کیا ہی پائے
کہ ہم نے بھی خود کو بہت گم کیا

0
4