| مٹ جائے گی کلفت دل سے، اِن بیتابی کے برسوں کی |
| پھر پیاس بجھے گی آنکھوں کی، اور پیاسے دید کے ترسوں کی |
| تم ہمت ہار کے مت بیٹھو، اے راہِ وفا کے مت وا لو! |
| بس تھوڑی سی ہی دوری ہے، اب کل کی یا پھر پرسوں کی |
| کیوں ہجر کی کالی راتوں سے گھبراتے ہو تم اے یارو! |
| آغوش میں آنے والی ہے، وہ صبحِ منور برسوں کی |
| ہم پیار کی شمع جلائیں گے، ہر گام پہ روشن بستی میں |
| تعبیر ملیں گی مل کر اب، اِن خوابوں اور اِن لَمسوں کی |
| جب سامنے وہ مہتاب ہو، اور ملن کی تر چھاؤں ہوگی |
| پھر قیمت پوری ملنے کی آس، اِن ہجر کے مارے ترسوں کی |
معلومات