ختم صفیہ نے کیا قرآن ہے
یہ خدا کا فضل اور احسان ہے
ہے خدا کی مہربانی خاص یہ
فضلِ ربّی ہم پہ گو ہر آن ہے
نابغہ نے کی جو محنت روز و شب
وقت کاشف کا ہوا قربان ہے
رنگ لائی ہیں دعائیں اس طرح
سب سنی اس نے جو الرّحمان ہے
ماں ہوئی صفیہ پہ صد جاں سے فدا
باپ کی تو یوں بھی اُس میں جان ہے
دادا دادی فخر سے دیکھیں اسے
نانا نانی کی بڑھائی شان ہے
ماموں کی صحبت کا بھی کچھ ہے اثر
پھوپھی ، خالاؤں کو اس پر مان ہے
حفظ واصف نے بھی کچھ حصّہ کیا
کھولا بہنا کے لئے میدان ہے
پڑھ لیا ہے ناظرہ اب ترجمہ
دیکھنا کرتا خدا آسان ہے
روز ہو اس کی تلاوت اور دعا
ہے محبّت اس سے یہ پہچان ہے
ہے عمل قرآن پر مقصود تو
ربّ کا بندے کے لئے فرمان ہے
عمر بھر جاری رہے معمول یہ
برکتوں کا اس کی گر عرفان ہے
اے خدا کر معرفت ہم کو عطا
الفتِ قرآن ہی ایمان ہے
آج صفیہ کے لئے ہے یہ دعا
ہوں نصیب اچھے یہی ارمان ہے

0
7