ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے
بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے
ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا
دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے
اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا
کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے
ایک ہم ہیں کہ لٹا بیٹھے ہیں ہستی اپنی
ایک وہ ہے کہ وہی عہدِ پرانے مانگے
تیرگی راس ہے اب روح کو ایسی اپنی
روشنی آئے تو چھپنے کے ٹھکانے مانگے
عمر بھر جس نے دیئے زخم ہمیں تحفے میں
آج بیٹھا ہے تو مرہم کے فسانے مانگے
ہم تو ساحل کی لکیروں کی طرح مٹ بھی گئے
موجِ دریا ہے کہ اب تک وہ نشانے مانگے

0
8