دیپ کی خاطر کیا طوفاں تھم جاتے ہیں؟
بد قسمت ہی اس کی زد میں آتے ہیں
جن کے پاس فراوانی ہے دولت کی
کیوں غربا کو روٹی پر ترساتے ہیں
ایک کے پاس نہیں کچھ جسم چھپانے کو
دوسرے مہنگے کپڑوں پر اتراتے ہیں
نام دیا "اشراف" امیروں کو تم نے
اور غریب یہاں کمتر کہلاتے ہیں
سرخ لہو سے میرے وطن کی مٹی ہے
حاکم جو ہیں کہ امن کا راگ سناتے ہیں
پاک وطن میں راج ہے غنڈا گردوں کا
مفلس بے تَقْصِیر بھی مارے جاتے ہیں
خون یہاں پر پانی سے بھی سستا ہے
پانی کی بوتل پر خون بہاتے ہیں
ان دھا ہے قانون ہماری بستی کا
اس کی نظر سے قاتل بھی بچ جاتے ہیں

0
4