| وفاؤں کا میری صلہ دے رہا ہے |
| مرا دوست مجھ کو دغا دے رہا ہے |
| لگایا تھا جس کو کبھی ہم نے دل سے |
| وہی اب جگر پر چُھرا دے رہا ہے |
| محبت کی محفل میں جو ساتھ تھا کل |
| وہی میری بستی جلا دے رہا ہے |
| میں ہنس کر چھپا لوں گا زخموں کو اپنے |
| مگر وہ تو سب کو بتا دے رہا ہے |
| شکایت میں اس کی کروں بھی تو کس سے |
| وہی جب عدالت سجا دے رہا ہے |
| جسے راز دل ہم نے سونپا تھا اپنا |
| وہی اب تماشہ بنا دے رہا ہے |
| جو کہتا تھا تیرے لیے جان دوں گا |
| وہی موت کی اب صدا دے رہا ہے |
| جلا کر مرے خواب، امید و ارماں |
| وہ یادوں کی مجھ کو ہوا دے رہا ہے |
| مجھے لوٹ کر میرے اپنے ہی گھر کا |
| وہ غیروں کو اب ہر پتا دے رہا ہے |
| میں سمجھا تھا جس کو اندھیرے کا سورج |
| مری زندگی کو گھٹا دے رہا ہے |
| جو دل چھوڑ کر گل رہا آستیں میں |
| وہی سانپ بن کر سزا دے رہا ہے |
معلومات