| ہم سے مانگی گئی ہے خاموشی |
| ہاں مگر عارضی ہے خاموشی |
| دل کی دھڑکن نہ آئے ہونٹوں پر |
| کر تقاضا رہی ہے خاموشی |
| نقش اس کے کبھی نہیں مِٹتے |
| میرے دل پر لکھی ہے خاموشی |
| شور جس کا نہ جائے یادوں سے |
| ایسی ہی ان کہی ہے خاموشی |
| چپ سِکھا جاتی ہے زباں کو جو |
| کیا عجب آگہی ہے خاموشی |
| لفظ درکار ہوں نہ باتوں کو |
| اور کیا بس یہی ہے خاموشی |
| بیسیوں شعر اور لِکھ دیتے |
| ہم نے پر اوڑھ لی ہے خاموشی |
معلومات