| خزانہ ہے نوری یہ الفت نبی کی |
| کرے دل فروزاں یہ چاہت نبی کی |
| اگر باغِ جنت ارادہ ہے ٹھہرا |
| بتائے جو رستہ ہے سیرت نبی کی |
| خدا سے نبی پر درود آئیں ہر دم |
| حسیں نغمے ہستی کے مدحت نبی کی |
| نبی میرے سرور حبیبِ خدا ہیں |
| عطائے خدا ہم پہ رحمت نبی کی |
| ذکر سے نبی کے یہ آفاق گونجیں |
| دکھائے خدا یوں ہے عزت نبی کی |
| خدا نے ہے دیکھا عیاں حسن اُن کا |
| چھپائی ہے پردوں نے صورت نبی کی |
| اے محمود ڈنکے عُلیٰ ہیں نبی کے |
| بلندی کو چمکائے رفعت نبی کی |
معلومات