مِرا دل ہے ایسے دَہَک رہا کہ بجھائے سے بھی بجھا نہیں
یہ وہ آفتاب ہے عشق کا پسِ شام بھی جو ڈھلا نہیں
میں وہ جام ہوں جو نہ تر ہوا کبھی زہر و شر کی شراب سے
مرے کاسۂِ جاں کو بھر سکے وہی ساقی مجھ کو مِلا نہیں
کسی ڈوبتے کو اچھال کر جو ڈبوتی ہے یہی بے کراں
ارے کیسا لیتی ہے امتحاں یہی عقدہ مجھ پہ کُھلا نہیں
مجھے بیچ کر سرِ راہ وہ، ابھی مانگتا ہے نِباہ وہ
لو عجب ہے مِیرا وہ خیر خواہ جو چاہتا ہی بھلا نہیں
اجی جتنی بار ہوں میں گِرا پھر اٹھا ہوں اٹھ کے میں چل دیا
میں نے مانی ہے نہ شکست اور کبھی لڑنے سے میں ٹلا نہیں

0
1