فضائے دہر میں پھر چھا گیا غم کا دھواں دیکھو
محرم کا ہلالِ نو ہوا ہے رونما دیکھو
زمانہ پوچھتا ہے کیا ہے پیغامِ شہِ والا؟
قلم خاموش ہے، بولے گی اب خاکِ شفا دیکھو
نہ جھکنا جابروں کے سامنے، یہ درسِ اول ہے
یہی عباس کا، اکبر کا تھا عزم و وفا دیکھو
جہاں پیاسے گلے پر چل گئی بے رحم تلواریں
وہیں پایا ہے سجدے نے خشوع و التجا دیکھو
حسین ابنِ علی نے خوں سے سینچا باغِ الفت کو
کہ حق زندہ رہے، چاہے لٹے دارِ فنا دیکھو
یزیدی سوچ مٹ جائیگی، یہ مٹنے ہی والی ہے
حسینی نام مٹ سکتا نہیں، چاروں ڈشا دیکھو

0
3