وہ ایک بچہ ستاروں کو دیکھ کر خوش تھا
کہ جیسے دور سے کوئی اسے بلاتا ہو
ہر ایک نور میں پوشیدہ کوئی راز اسے
کسی نہ دیکھی زباں میں سنائی دیتا ہو
میں آج جانتا ہوں، روشنی صدا تو نہیں
نہ کوئی خط ہے، نہ پیغام، نہ کوئی مکتوب
یہ کائنات کسی سے کلام کرتی نہیں
یہ آدمی ہے جو سنتا ہے اپنی ہی آواز
مگر عجیب ہے، اس آگہی کے ہوتے ہوئے
میں اب بھی رات کو چھت پر نکل کے آتا ہوں
جہاں سے کوئی مجھے دیکھتا نہیں شاید
میں پھر بھی دیر تلک دیکھتا ہی جاتا ہوں
وہ ایک بچہ مرے پاس آ کے بیٹھ گیا
نہ کوئی شکوہ کیا، اور نہ کوئی بات کہی
میں اس سے پوچھنے والا تھا، کیا ملا تجھ کو؟
مگر وہ مجھ سے بھی یہ پوچھتا تو کیا کہتا؟

0
3