| ہر صبح |
| اسی کپ میں چائے آتی ہے۔ |
| کھڑکی کے پاس وہی میز، |
| دھوپ کا وہی چھوٹا سا ٹکڑا، |
| اور میری انگلیاں |
| کپ کی گرم دیوار کے گرد |
| اپنی جگہ پہچان لیتی ہیں۔ |
| کبھی چائے آدھی رہ جاتی ہے، |
| کبھی باتوں میں ٹھنڈی، |
| کبھی شام تک |
| اس کی سطح پر |
| ایک باریک سی تہہ جم جاتی ہے۔ |
| گھر میں کسی کو |
| یہ سب یاد نہیں رکھنا پڑتا۔ |
| کچھ عادتیں |
| یاد نہیں کی جاتیں، |
| وہ گھر میں رہتی ہیں— |
| دروازے کی چرچراہٹ میں، |
| سیڑھی کے ایک زینے کی آواز میں، |
| میز پر پڑے کسی پرانے نشان میں۔ |
| پھر ایک صبح |
| چائے اپنے وقت پر بنے گی۔ |
| دھوپ آئے گی، |
| پردہ ہلے گا، |
| گلی اپنی آوازوں سے بھر جائے گی۔ |
| صرف کپ |
| ویسے ہی رکھا رہے گا۔ |
| پہلے کسی کو خیال نہیں آئے گا۔ |
| پھر کوئی پوچھے گا، |
| یہ چائے کس کی ہے؟ |
| اور اس سوال کے بعد |
| جو چند لمحے خاموش رہیں گے، |
| ان میں پہلی بار |
| کمرے میں میری جگہ دکھائی دے گی۔ |
| چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔ |
| کسی وقت |
| کوئی کپ اٹھا کر سنک میں رکھ دے گا۔ |
| پانی بہے گا، |
| چائے کا آخری رنگ |
| کپ کی سفید سطح سے |
| آہستہ آہستہ اتر جائے گا۔ |
| کچھ دن بعد |
| وہ کپ پھر میز پر ہوگا۔ |
| کسی اور ہاتھ میں۔ |
| چائے پھر گرم ہوگی، |
| دھوپ پھر اسی کنارے تک آئے گی، |
| گھر پھر |
| اپنی رفتار میں چلنے لگے گا۔ |
| کبھی کپ میز پر رکھتے ہوئے |
| ہلکی سی کھنک ہوگی، |
| کوئی بے اختیار |
| دروازے کی طرف دیکھے گا، |
| پھر نظریں ہٹا لے گا۔ |
| وقت گزرے گا۔ |
| اور ایک دن |
| وہی کپ میز پر رکھا جائے گا، |
| وہی کھنک سنائی دے گی— |
| اور کوئی |
| دروازے کی طرف نہیں دیکھے گا۔ |
معلومات