خالق کا بنایا وجود ہوں میں
‎معبود ترے باوجود ہوں میں
‎
‎تخلیق پہ اپنی میں سوچتا ہوں
‎محبوب کے قد کی حدود ہوں میں
‎
‎ابلیس کے سجدہ سجود ضائع
‎انسان کا سجدہ سجود ہوں میں
‎
‎یہ خوش خبری آئی ہے خدا سے
‎قرآن میں بندوں ودود ہوں میں
‎
‎ظاہر بھی میں باطن بھی میں خدا بھی
‎یہ شان ہے میری حمود ہوں میں
‎
‎میں ورد کروں نام لوں محمد
‎ یہ ذکر پکارے درود ہوں میں
‎
‎ذیشان ندامت ہے جو کہے ہے
‎تہذیب میں اپنی یہود ہوں میں
‎
‎

5