اس رحمتِ عالم کی ہر بات نرالی ہے
محبوب ہیں قادر کے جو ذات جلالی ہے
قاسم ہیں وہ نعمت کے ہر فیض ملے اُن سے
فیضان سے سرور کے پُر دہر کی تھالی ہے
سلطانِ جہاں شامل سرکار کے بردں میں
کونین میں یہ ہستی ہر عیب سے خالی ہے
تھے خدمتِ اقدس میں طالع ہیں حسیں ان کے
سب جانیں صحابہ میں جو شانِ بلالی ہے
دیدار ہی روضہ کے ہر عید سے برتر ہیں
خیرات ملے اس جا دارین سوالی ہے
دلدارِ جہاں اُن سا دارین نے کب دیکھا
دارین کے سرور ہیں اور شان مثالی ہے
جو رتبے ملے اُن کو کب مثل کہیں اُن کی
جو فیض ملے اُن سے دارین میں عالی ہے
ملتا وہ اگر ہوتا دلدارِ خدا دیگر
ماذاغ ملا سرمہ اور زلف بھی کالی ہے
محمود نبی سرور قوسین کے دولہا ہیں
جو درجہ ہے دلبر کا ہر فوق سے عالی ہے

0
1
2
مرکزی پیغام
اس نعت کا بنیادی پیغام عشقِ رسول ﷺ، تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ، بارگاہِ نبوی ﷺ سے روحانی وابستگی اور آپ ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ شاعر حضور اکرم ﷺ کی محبوبیتِ الٰہی، بے مثال عظمت، فیض و کرم، حسنِ سیرت اور مدینہ منورہ کی زیارت کی آرزو کو یکجا کرکے ایک ایسا عقیدت مندانہ نقش پیش کرتا ہے جو قاری کے دل میں محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ کلام کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ مسلمان کی حقیقی روحانی سعادت حضور نبی کریم ﷺ سے محبت، آپ ﷺ کی سیرت پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں پوشیدہ ہے۔

0