صادق امین مخبر سرور کی ہو ثنا
ایسے لطیف یزداں دلبر کی ہو ثنا
ہیں فیضِ اولیں جو دارین میں حسیں
اوجِ کمال کے اُس اختر کی ہو ثنا
وہ گنج جس سے نکلے انوارِ دو سریٰ
اس کنزِ فیض والے انور کی ہو ثنا
آقا جمیلِ ہستی داتا جمال کے
پاکیزہ طینتوں میں طاہر کی ہو ثنا
جو لامکاں میں عرشِ اعلیٰ کے ہیں مکیں
ادراک سے ورا اس پیکر کی ہو ثنا
الطاف جن کے دیتے ہیں مژدہ جاں فزا
مولا کے اُس شفیعِ محشر کی ہو ثنا
محمود جانِ ہستی سرکار مصطفیٰ
تخلیق میں معطر طاہر کی ہو ثنا

0
4