اے دردِ دروں جاگو پھر رات بسر ہو گی
یہ محفلِ دلبر ہے یادوں میں سحر ہو گی
سرکار نوازیں گے الطافِ کریمی سے
تاباں ہیں مقدر پھر گر ہم پہ نظر ہو گی
گلشن ہے درخشاں جو دلدار کے آنے ہیں
جو صبحِ صفا ہو گی انوار سے پُر ہو گی
یہ تار ہوا داماں ہیں کار زیاں اپنے
کیا شکل دکھاؤں گا جب اُن کو خبر ہو گی
کب در پہ بلائیں گے وہ سرورِ جانانہ
جب طیبہ پہنچوں گا یہ جان نذر ہو گی
ہے بادِ صبا لاتی جب نکہتِ جاناں کو
یوں لاگے مدینے میں اب یارو گزر ہو گی
یہ جاگیں گے طالع بھی محمود نہ گھبرانا
تم بردے ہو عترت کے اُس در پہ بسر ہو گی

1
6
سبحان اللہ
کیا کہنے
اعلیٰ ترین طرزِ سخن
ہر ایک مصرع عالی شان

یہ محفلِ دلبر ہے یادوں میں سحر ہو گی

واہ

0