دھومیں حبیب کی آفاقِ دہر میں ہیں
یہ نعرے ہر گھڑی ہیں شام و سحر میں ہیں
الطافِ مصطفیٰ سے کونین کی ہے جاں
اعمال و حال سب کے اُن کی نظر میں ہیں
انعامِ دلربا ہیں دونوں جہان پر
جنت کریں عطا جو آقا کے گھر میں ہیں
کتنے کریم داتا کیسے ہیں دلربا
جو چاہتیں ہیں اُن کی سوزِ جگر میں ہیں
سالارِ انبیا ہیں رب کے لبیب یہ
جن کے غلام دیتے جانیں نذر میں ہیں
ہیں عام حشر میں کَل اُن کی شفاعتیں
گو عیب جانتے وہ بندے بشر میں ہیں
کعبہ بنا ہے قبلہ صدقے رسول کے
اسباق ڈھونڈیں وہ جو شقِ قمر میں ہیں
ہیں قریہ قریہ جاری میلادِ مصطفیٰ
یہ شہر، شہر میں ہیں قریہ، نگر، میں ہیں
محمود اُن سے زینت دونوں جہان میں
جن کے حسیں ترانے ماہ و مہر میں ہیں

0
1
4
📌 مجموعی خلاصہ

یہ نعت درج ذیل مرکزی عقائد اور تصورات کو بیان کرتی ہے:

حضور ﷺ کا ذکر پوری کائنات میں بلند ہے
آپ ﷺ رحمت للعالمین ہیں اور اُمت پر مہربان ہیں
آپ ﷺ کو شفاعت کا مقام حاصل ہے
آپ ﷺ سردارِ انبیاء ہیں
معجزات (شق القمر) اور تاریخی واقعات (تبدیلی قبلہ) آپ کی صداقت کی دلیل ہیں
عشقِ رسول ﷺ ایمان کا لازمی حصہ ہے
دنیا و آخرت کی خوبصورتی حضور ﷺ کی نسبت سے ہے

0