تازہ کلام
مرے ضمیر کو اک رنجِ رفتگانی ہے
کتابِ زیست کا عنوان رائیگانی ہے
ضرورتوں سے بھی تھوڑے کرم پہ آمادہ
کہ اہلیانِ محبت کی یہ نشانی ہے
یہ لوگ کچھ بھی جو کہہ دیتے ہیں برائے مذاق
یہ اُن کے دل کی حقیقت میں ترجمانی ہے
مُنافقت سے بھرے ہیں تمام رشتے اب
یہ میل جول، یہ قربت فقط زبانی ہے
اے سانپ پالنے والے تو کیسے بھول گیا
تری سرشت میں شامل ضرر رسانی ہے
جدید باب سے قِصّہ شُروع کیا ہے کلیم
مرے گذشتہ سے یہ مختلف کہانی ہے

0
44