پہلی کاوش:
وہ حقیقت کو جو دیکھے تو ڈرامہ کہتے
اور ڈراموں کو حقیقت وہ تصور کرتے
دوسری کاوش:
ڈراموں کو حقیقت وہ تصور کرتے رہتے ہیں
حقیقت جان کر بھی وہ ڈرامے کرتے رہتے ہیں
تیسری کاوش:
تری مجبوریوں کو اب مبارک کون سمجھے گا؟
خیالوں میں جو جیتے ہیں حقیقت کون سمجھے گا؟

0
9