| میں اپنی کہانی کا خود ہوں مصنف |
| مری اس کہانی کے کردار دو ہیں |
| کئی باب اس کے میں لکھ بھی چکا ہوں |
| کئی اس کے اوراق پھاڑے ہیں میں نے |
| کئی بار اس میں قلم بھی ہے توڑا |
| کئی اس کے منظر سنوارے ہیں میں نے |
| کبھی اس میں خود کو سمندر سا لکھا |
| کبھی خود کو صحرا کے ذرے برابر |
| کبھی خود کو پایا ستاروں سا میں نے |
| کبھی پھول ، پتوں ، بہاروں سا میں نے |
| کبھی خود کو موسم کہا میں نے پت جھڑ |
| کبھی خود کو جاڑے کی سردی کہا ہے |
| کبھی اس میں بارش کی رم جھم سا تھا میں |
| کبھی خود کو سورج کی تپتی کہا ہے |
معلومات